بنگلورو۔29؍مارچ(ایس او نیوز) کاویری نگرانی کمیٹی کے قیام پر زور دیتے ہوئے تملناڈو کے اراکین پارلیمان کی طرف سے لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کے فوری بعد سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے ریاست کے اراکین پارلیمان کو مشورہ دیا کہ وہ تملناڈو کے اراکین پارلیمان کی اس حرکت پر جذباتی نہ ہوں ، بلکہ حکمت عملی کے ساتھ تملناڈو کے اس پروپگنڈہ کا مقابلہ کیا جائے۔
ہاسن میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہاکہ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کے متعلق سپریم کورٹ نے جو حکم صادر کیا ہے مرکزی حکومت نے اس کے نفاذ کو مشکل قرار دیا ہے۔ اسی لئے تملناڈو کے اراکین پارلیمان نے سخت اعتراض درج کیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک رکن پارلیمان نے خود کشی کی بھی دھمکی دے دی ہے۔ اس طرح کی ہٹ دھرمی درست نہیں ۔ خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش ہونی چاہئے، اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے بھی دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے او ر عدالت کی ہدایت کے مطابق کام کرنے کا تیقن دیا ہے۔ دیوے گوڈا نے کہا کہ مرکزی وزیر برائے آبی وسائل کو چاہئے کہ اپنی صدارت میں چاروں ریاستوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جس میں چاروں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ مدعو کئے جائیں۔ کاویری طاس کے حصہ دار تمام ریاستوں کے افسروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو پانی کے ذخیرے کا جائزہ لے گی،اور اس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر وزرائے اعلیٰ کی کمیٹی قائم کرے ۔ ملک بھر میں فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیکولر سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو سابق وزیراعظم نے ایک خوش آئند پہل قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک مضبوط متبادل محاذ فرقہ پرستوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کافی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ فی الوقت وہ اس محاذ کا حصہ نہیں بیں گے، ریاستی اسمبلی انتخابات کے بعد اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں دونوں قومی سیاسی جماعتوں کے خلاف جنتادل (ایس) کو تحریک چلانی ہے ، اسی لئے وہ فی الوقت کسی ایک سیاسی طاقت کے خلاف جانے کے موقف کا اظہار نہیں کرے گی بلکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے خلاف کام کرے گی۔ سپاری کے کاشتکاروں کے مسائل پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ ریاستی اور مرکزی حکومت ان کاشتکاروں کے مفادات کی حفاظت میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد سپاری کے کاشتکار بے روزگاری کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ ان کی مدد کے لئے ریاستی حکومت کے اشتراک کے ساتھ ٹھوس قدم اٹھائے۔